سورت 3/اپریل (ایس او نیوز) گجرات کے سورت سیشن کورٹ نے کانگریس لیڈر اور سابق ایم پی راہول گاندھی کو ’مودی‘ سر۔نیم ہتک عزت معاملہ میں ضمانت دے دی ہے اور کیس کی اگلی سماعت 13 اپریل کو رکھی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق کانگریس لیڈر راہل گاندھی آج گجرات کے سورت سیشن کورٹ پہنچے اور ذیلی عدالت کے ذریعہ مودی سرنیم (کنیت) معاملہ پر سنائی گئی 2 سال جیل کی سزا کو چیلنج پیش کیا۔ اس سے پہلے راہل گاندھی کے وکیل نے عدالت میں اپیل فائل کی تھی جس پر سورت کورٹ نے اس معاملے پر آئندہ سماعت کے لیے 3 مئی کی تاریخ مقرر کی۔ اس درمیان عدالت نے راہل گاندھی کے ضمانت معاملہ پر سماعت کے لیے 13 اپریل کی تاریخ طے کی ہے اور اس وقت تک کے لیے انھیں ضمانت دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔
آج راہل گاندھی کے ساتھ ان کی بہن پرینکا گاندھی کے علاوہ کانگریس حکمراں تین ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو موجود تھے، ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان و لیڈران بھی گجرات پہنچے ہیں۔ اس موقع پر اشوک گہلوت نے بتایا کہ ’’ہمیں عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ ہم یہاں اپنا اتحاد ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم ملک کو بچانے کے لیے ’ستیاگرہ‘ کر رہے ہیں۔ ملک دیکھ رہا ہے کہ اندرا گاندھی کے پوتے اور راجیو گاندھی کے بیٹے راہل گاندھی کے ساتھ آج کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ سورت کی ایک عدالت نے انہیں دو سال قید کی سزا سنائی تھی جب بی جے پی ایم ایل اے پرنیش مودی نے راہول گاندھی کے 'مودی' کنیت کے بارے میں ریمارکس کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔
13 اپریل 2019 کو کرناٹک کے کولار میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے پوچھا تھا کہ "نیرو مودی، للت مودی، نریندر مودی۔ ان سب کا مشترکہ سر۔نیم مودی کیوں ہے؟ تمام چوروں کی کنیت مودی مشترک کیسے ہے؟
واضح رہے کہ سورت میں چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ ایچ ایچ ورما کی عدالت نے مودی سرنیم کو لے کر راہل گاندھی کی طرف سے کیے گئے تبصرہ پر داخل مجرمانہ ہتک عزتی کے مقدمہ میں انھیں 23 مارچ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 2 سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ حالانکہ عدالت نے راہل گاندھی کو اسی دن ضمانت بھی دے دی تھی اور ان کی سزا کے عمل پر 30 دن کے لیے روک لگا دی تھی تاکہ وہ اوپری عدالت میں اپیل داخل کر سکیں۔
سورت کی عدالت کے ذریعہ قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد لوک سبھا سکریٹریٹ نے 24 مارچ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ لوک سبھا کی رکنیت ختم ہونے کے بعد راہل گاندھی 8 سال تک انتخاب نہیں لڑ پائیں گے، بشرطیکہ کوئی اعلیٰ عدالت ان کی سزا پر روک نہ لگا دے۔